بھٹکل :3ڈسمبر ( ایس اؤنیوز )جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں جاری دو روزہ مختلف اسلامی ثقافتی مسابقے جمعرات کی شب شہر میں طلبہ کے دلچسپ مظاہروں کے ساتھ اختتام کو پہونچے ۔ جامعہ اسلامیہ کی طلبہ تنظیم’’ اللجنۃ العربیہ ‘‘کے زیر اہتمام ان مسابقوں میں منگلورو تا گوا مختلف اسکولز اور مدارس کے ساتھ شبینہ مکاتب کے طلبہ کی کثیر تعداد شریک رہی۔
شہر کے سلطانی محلے میں بروز جمعرات کی رات منعقدہ شاندار پروگرام میں متعلقہ مقابلوں میں بہترین کار کردگی انجام دینے والے طلبہ کا مظاہرہ کیا گیا جس میں عوام و خواص کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ اجلاس میں جہاں طلبہ نے جامعہ کی دو روزہ کار کردگی کا نچوڑ پیش کیا، وہیں شہر کے معروف علمائے کرام نے اپنے خطابات کے ذریعہ اس قسم کے پروگراموں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرامات سے نسل نو کے ایمانی تحفظ اور بقائے دین کا اہم ذریعہ ہیں۔ مولانا محمد الیاس ندوی نے پروگرام کا مقصد بتاتے ہوئے واضح کیا کہ جامعہ کے پچاس سالہ تعلیمی کنونشن کے موقع پر جو قرار دادیں منظور ہوئی تھیں ان میں سب سے اہم بات جامعہ کومرکز بنا کر پورے اطراف و اکناف کے مدارس میں موجود ہ حالات کےپیش نظر حکمت کے ساتھ نئی نسل کو دین پر باقی رکھنے کی کوشش کی جانی چاہئے ، انہوں نے واضح کیا کہ اور اس نوعیت کے پروگرام اسی منصوبے کاایک حصہ ہیں ۔ قاضی مرکزی خلیفہ جماعت المسلمین اور استاذ حدیث جامعہ اسلامیہ مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ ارباب جامعہ اور بانیان جامعہ نے شروع دن سے ہی یہ نعرہ دیا تھا کہ دین زندہ رہے گا تو ہم زندہ رہ سکیں گے ۔ اس لئے طلبہ کے ذہن میں شروع سے ہی یہ بات بٹھا دی گئی کہ دین کے بغیر زندگی کا کوئی تصور نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر زمانے میں یہ پیغام مدارس کے ذریعہ عام کیا جاتا رہا ہے ۔مولانا نے کہا کہ اغیار نے ہر زمانے میں کوشش کی کہ دینی مدارس کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی جائیں اور ان کو طرح طرح سے بدنا م کیا جاتا رہے ۔
اجلاس کے بعد ساحل آن لائن سے بات کرتے ہوئے کرتے ہوئے مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد کوبٹے ندوی نے کہا کہ پڑوسی اضلاع کے ہر مقام تک جامعہ کی اپنی بات پہونچانے کی ایک کوشش ہے۔ تاکہ نئی نسل کا اسلام پر اعتماد باقی ہی نہ رہے بلکہ اس تعلق سے ذمہ داران فکرکریں اور نونہالان ملت کو دین کی بنیادوں سے واقف کرائیں جس سے انہیں اس ملک میں اپنے ایمان کی حفاظت کا کام آسان ہو جائے۔ مقررین نے ملک کے موجود ہ حالات ، طلاق ثلاثہ ،شریعت میں مداخلت جیسے ایشوز کے پس منظر میں دین و شریعت پر مسلمانوں کے اعتماد کو بڑھانے کے لئے ینی علوم کی ضرورت و اہمیت واضح کی ۔ رات قریب ساڑھے بارہ بجے سلطانی محلے میں منعقد یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا ۔ساحلی کرناٹکا کے اضلاع سےشبینہ مکاتب، اسکولز،مدارس، مکاتب ، کے طلباء کے مابین ہوئے مسابقے میں امتیازی نمبرات حاصل کر کےپہلی دوسری تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کے درمیان بیش قیمت انعامات تقسیم کئے گئے ۔اسکولس اور شبینہ مکاتب کے درمیان منعقدہ سیرت کوئزکا فائنل راؤنڈ بھی عوام کے سامنے ہی پیش کیا گیا جس میں طلبہ کے اندر بنیادی دینی معلومات اور جواب دینے کو لیکر ان کے اندر پائے جانے والے اعتماد کی حاضرین نے داد دی ۔ جمعرات کی صبح جامعہ کے کانفرنس ہال میں منعقد پروگراموں میں کوئز اور دیگر مسابقے بھی کافی اہم تھے۔مگر ان سب میں اسلامی ترانوں نے سامعین نے دلوں کی سر د انگھیٹوں میں حرارت پیدا کی ۔ شام کو انہی ترانوں میں سے بعض ترانوں کا شہر میں جب مظاہرہ کیا گیا تو دوسرے دن اکثر جگہ اس کی گھن گرج سنائی دیتی رہی ۔ کل ملا کر یہ تمام پروگرام بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوئے ، اللجنۃ العربیہ کے سکریٹری جنرل نے ساحل آن لائن کے ساتھ بات چیت میں اس پروگرام کی کامیابی اور اپنے ساتھیوں کے تعاون پر خوشی کا ظہار کیا ۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ آئندہ اس سے بھی بڑے پیمانے پر دوسرے پروگرامس کے انعقاد کے خواہاں ہیں ۔ ساحل آن لائن تمام کامیاب طلبہ و استاذہ سمیت ذمہ داران جامعہ کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتا ہے ۔